حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ

To read more…CLICK HERE

تمہید

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ انسانی تاریخ کے اُن عظیم واقعات میں سے ہے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے هدایت، نصیحت اور عبرت کا سامان فراہم کرتا ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی اور حق کے انکار کا انجام کتنا ہولناک ہو سکتا ہے، جبکہ صبر، استقامت اور ایمان بالآخر کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ قرآنِ مجید میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور یہ واقعہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔

حضرت نوحؑ کا تعارف

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ سمجھنے کے لیے سب سے پہلے حضرت نوحؑ کی شخصیت کو جاننا ضروری ہے۔ حضرت نوحؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا جو شدید گمراہی، شرک اور اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے نبی بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو صحیح راستہ دکھائیں اور برے انجام سے بچائیں۔

قومِ نوح کی گمراہی

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب قومِ نوح بت پرستی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ وہ اللہ واحد کی عبادت چھوڑ کر مختلف بتوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قومِ نوح صرف شرک ہی نہیں بلکہ تکبر، ظلم اور نافرمانی میں بھی حد سے گزر چکی تھی۔ وہ اپنے نبیؑ کی بات سننے کو تیار نہ تھے اور دنیاوی طاقت و دولت پر گھمنڈ کرتے تھے۔

To read more…CLICK HERE

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ

حضرت نوحؑ کی دعوتِ حق

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ حضرت نوحؑ کی مسلسل جدوجہد اور صبر کا آئینہ دار ہے۔ حضرت نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ یہ واضح کرتا ہے کہ حضرت نوحؑ نے دن رات، اعلانیہ اور پوشیدہ ہر طریقے سے اپنی قوم کو سمجھایا۔ انہوں نے توحید، تقویٰ اور نیک اعمال کی تلقین کی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا، مگر قوم نے انکار ہی کیا۔

قوم کا مذاق اور انکار

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ایک دردناک مرحلے میں داخل ہوتا ہے جب قومِ نوح نے حضرت نوحؑ کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ بتاتا ہے کہ قوم کے سردار حضرت نوحؑ کو دیوانہ اور جھوٹا کہنے لگے۔ غریب ایمان لانے والوں کو حقیر سمجھا گیا اور کہا گیا کہ اگر یہ راستہ سچا ہوتا تو ہم جیسے معزز لوگ پہلے ایمان لاتے۔

حضرت نوحؑ کی دعا

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اس وقت ایک نئے موڑ پر پہنچتا ہے جب حضرت نوحؑ نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب ظلم اور انکار حد سے بڑھ جائے تو اللہ کی مدد آتی ہے۔ حضرت نوحؑ نے دعا کی کہ اے اللہ! زمین پر کافروں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ، کیونکہ یہ صرف گمراہی پھیلائیں گے۔

کشتی بنانے کا حکم

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اُس وقت تاریخی بن جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو کشتی بنانے کا حکم دیا۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ کشتی ایک خشک میدان میں بنائی جا رہی تھی، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ قوم نے اس پر بھی حضرت نوحؑ کا مذاق اُڑایا، مگر حضرت نوحؑ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے۔

سفینۂ نوح کی تیاری

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ سفینۂ نوح کی تیاری کے مرحلے میں ایمان اور اطاعت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل عقل کے ظاہری معیار سے بالا ہوتا ہے۔ حضرت نوحؑ نے کشتی تیار کی اور اللہ کے حکم کے مطابق ہر جانور کے جوڑے اور ایمان لانے والوں کو اس میں سوار کیا۔

To read more…CLICK HERE

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ

طوفان کا آغاز

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اس وقت انتہائی ہولناک شکل اختیار کر لیتا ہے جب آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے اور زمین سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ واضح کرتا ہے کہ یہ ایک عام سیلاب نہیں بلکہ اللہ کا عذاب تھا جو نافرمان قوم پر نازل ہوا۔

حضرت نوحؑ کا بیٹا

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ایک جذباتی پہلو بھی رکھتا ہے، جو حضرت نوحؑ کے بیٹے سے متعلق ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ بتاتا ہے کہ حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کو ایمان کی دعوت دی، مگر اس نے انکار کر دیا اور پہاڑ پر پناہ لینے کی کوشش کی۔ بالآخر وہ بھی طوفان میں غرق ہو گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نجات کا دارومدار نسب پر نہیں بلکہ ایمان پر ہے۔

قومِ نوح کی ہلاکت

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ اس انجام پر پہنچتا ہے جہاں پوری نافرمان قوم پانی میں غرق ہو جاتی ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ طاقت، دولت اور تعداد سب بے کار ثابت ہوئیں اور صرف ایمان والے ہی محفوظ رہے۔

To read more…CLICK HERE

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ

طوفان کے بعد کی زندگی

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ طوفان کے خاتمے کے بعد ایک نئی ابتدا کی علامت بن جاتا ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ بتاتا ہے کہ کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری اور حضرت نوحؑ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد زمین پر نئی انسانی زندگی کا آغاز ہوا۔

عبرت اور سبق

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر، استقامت اور اللہ پر کامل یقین انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں شرک، تکبر اور نافرمانی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ اللہ کی رحمت ایمان والوں کے لیے ہمیشہ قریب ہوتی ہے۔

نتیجہ

حضرت نوحؑ اور اس کی قوم کا واقعہ آج بھی اتنا ہی زندہ اور مؤثر ہے جتنا ہزاروں سال پہلے تھا۔ حضرت نوحؑ کی قوم کا واقعہ ہر اُس شخص کے لیے پیغام رکھتا ہے جو حق کی تلاش میں ہے۔ اگر انسان اللہ کے احکامات پر عمل کرے اور انبیاء کی تعلیمات کو اپنائے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔

To read more…CLICK HERE

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here